PakFellows Blog

The Heartbeat Of Pakistan

Iqbal - Aik Baap Ki Haisiyat Se (Part 2)

Continued from Part 1

مجھے کہانیوں کی کتابیں پڑھنے کا بھی شوق تھا۔ باغ و بہار (قصہ چہار درویش) حاتم طائی، طلسم ہو شربا اور عبد الحلیم شرر کے سب ناول پڑھ ڈالے تھے۔ ساتویں جماعت کے امتحان کے قریب میرے ہاتھ الف لیلہ لگ گئی اور یہ کتاب مجھے اتنی اچھی لگی کہ رات گئے تک پڑھتا رہتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساتویں جماعت کے امتحان میں ناکام ہوگیا۔ جب ابا جان کو علم ہوا کہ میں الف لیلہ میں منہمک ہونے کی وجہ سے امتحان میں ناکامیاب رہا ہوں تو برہم نہ ہوئے۔ کہنے لگے اگر تم امتحان میں کامیاب ہوجانے کے بعد الف لیلہ پڑھتے تو تمہیں اور بھی لطف آتا۔“

[Read the rest of this entry...]

Iqbal - Aik Baap Ki Haisiyat Se (Part 1)

اقبال، ایک باپ کی حیثیت سے

جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال

میں نے سنا ہے کہ میری پیدائش سے چند سال قبل ابا جان حضرت شیخ احمد سرہندی مجددِ الف ثانی کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایک بیٹا عطا کرے۔ آپ نے حضرت مجدد سے یہ عہد بھی کیا کہ اگر خداوندتعالیٰ نے آپ کو بیٹا دیا تو اُسے ساتھ لے کر مزار پر حاضر ہوں گے۔


آپ کی دعا پوری ہوئی اور کچھ عرصے بعد جب میں نے ہوش سنبھالا تو آپ مجھے اپنے ہمراہ لے کر دوبارہ سرہند شریف پہنچے۔ اس سفر کی دھندلی سی یادیں میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ میں اُن کی انگلی پکڑے مزار میں داخل ہوا۔ گنبد کے تاریک مگر پروقار ماحول نے مجھ پر ہیبت سی طاری کر رکھی تھی۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے میں اپنے چاروں طرف گھور رہا تھا۔ جیسے میں اس مقام کی خاموش ویرانی سے کچھ کچھ شناسا ہوں۔ ابا جان نے مجھے اپنے قریب بٹھالیا۔ پھر قرآن مجید کا ایک پارہ منگوایا اور دیر تک پڑھتے رہے۔ اس وقت صرف ہم دو ہی مزار کے قریب بیٹھے تھے۔ گنبد کی خاموش اور تاریک فضا میں ان کی آواز کی گونج ایک ہول ناک اِرتعاش پیدا کر رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو اُمڈ کر رخساروں پر ڈھلک آئے تھے۔ ایک روز وہاں ٹھہرنے کے بعد ہم گھر واپس آگئے۔ لیکن مجھ پر اس راز کا اِنکشاف نہ ہوا کہ آخر اس مزار پر جانے کا مقصد کیا تھا اور وہ آنسو کس لیے تھے۔ مجھے یاد ہے میں بچپن میں اکثر یہی سوچا کرتا تھا۔


اپنی زندگی میں ابا جان نے مجھے شاید ہی کوئی ایسا موقع دیا ہوگا جس سے میں ان کی شفقت یا اس اُلفت کا اندازہ لگاسکتا جو انہیں میری ذات سے تھی۔ والدین بچوں کو اکثر پیار سے بھینچا کرتے ہیں، انھیں گلے سے لگاتے ہیں، انھیں چومتے ہیں مگر مجھے ان کے چہرے سے کبھی اس قسم کی شفقت کا احساس نہ ہوا۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ انھیں مجھ سے محبت نہ تھی، سراسر غلط ہے۔ ان کی محبت کے اظہار میں ایک اپنی طرز کی خاموشی تھی جس تک پہنچنے کی اہلیت میرا ناپختہ ذہن نہ رکھتا تھا۔ بہرحال، جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، میں ان سے محبت کم کرتا اور خوف زیادہ کھاتا تھا۔


بعض اوقات والدین میں اپنے بچوں کی تربیت کے سلسلے میں تنازعہ بھی ہوجایا کرتا ہے۔ اسی طرح اباجان اور اماں جان میں میری وجہ سے کئی بار تکرار ہوجاتی۔ مثلاًاماں جان کو میرے متعلق ہر گھڑی یہی فکر دامن گیر رہتی کہ جب کبھی میں اکیلا کھانا کھاﺅں، پیٹ بھر کر نہیں کھاتا۔ اس لئے وہ ہمیشہ مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا کرتیں۔ یہاں تک کہ میں آٹھ نو برس کا ہوگیا پھر بھی مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھانے کی عادت نہ پڑی، ابا جان اس بات پر بارہا ناراض ہوئے کہ تم اسے بگاڑرہی ہو۔ اگر یہ جوان ہوکر خود کھانا نہ کھاسکا تو کیا ہوگا؟ ہم لوگ رات کو اکثر خشکہ کھایا کرتے تھے لہٰذا اب یوں ہوتا کہ بطور احتیاط چمچہ میری پلیٹ کے قریب رکھ دیا جاتا مگر کھانا اماں جان ہی کھلاتیں۔ ابا جان کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ دبے پاﺅں زنانے میں آیا کرتے۔ اس طرح کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے پاتی۔ بہرحال، جب بھی اماں جان مجھے کھلارہی ہوتیں، ان کا دھیان باہر رہتا اور جونہی وہ ابا جان کے قدموں کی ہلکی سی آہٹ سنتیں اپنا ہاتھ پھرتی سے علیحدہ کرکے چمچہ میرے آگے رکھ دیتیں اور میں خود کھانا کھانے میں مشغول ہوجاتا۔ مجھے یقین ہے کہ ابا جان کئی مرتبہ اس کا سراغ لگاچکے تھے۔ لیکن وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے بعد چلے جایا کرتے تھے۔

[Read the rest of this entry...]

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر


دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

خدُا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھکو
سکوتِ لالہ و گلُ سے کلام پیدا کر

اٹُھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے اِحساں
سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر

میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر
میرے ثمر سے مے لالہ فام پیدا کر

مرِا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خوُدی نہ بیچ ، غریبی میں نام پیدا کر

Words do make a difference

A blind boy sat on the steps of a building with a hat by his feet. He held up a sign which said: ‘I am blind, please help.’ There were only a few coins in the hat.

A man happened to walk by. He took a few coins from his pocket and dropped them into the hat. He then took the sign, turned it around, and wrote some words. He put the sign back so that everyone who walked by would see the new words. [Read the rest of this entry...]

Kis Qadar Khuwab Thay - by Amjad Islam Amjad


اَب جو سوچیں بھِی تو خوف آتا ہے
کِس قدَر خواب تھے جو خواب رہے
کِس قدر نَقش تھے جو نقشِ سرِ آب رہے
کِس قدر لوگ تھے جو
دِل کیِ دہلیز پہ دسَتک کِی طرَح رہتے تھے
اور نایاب رہے..

کِس قدر رَنگ تھے جو
بند کلیوں کے خم و پیچ میں چکَرَاتے رہے
اپنے ہونے کی تب و تاب میں لہِراتے رہے
پر کبھی آپ سے باہِر نہ ھوُئے
پھوُل کے ہاتھ پہ ظاہِر نہ ھوُئے
دِل کے گِرداب میں ٹوُٹے ھوُئے پتّوں کی طرَح
ہمَہ تَن رَقص رہے
خوُن کے سُرخ میں بے نام ستِاروں کی طرَح
عکَس در عکس رہے

کیسے آدرَش تھے جنِکے سائے
سنسناتے ھوُئے تِیروں کی طرَح چلَتے تھے
ہیست اور نیست کے مابین عجَب رِشتہ تھا
روُح کی آگ بھَڑکتی تو بدن جلتے تھے

وہ شب و روز تھے کیا،
جب کسی خواہشِ بیدار کی طغیانی میں
وقت کی قید سے لمحات نکل جاتے تھے
خون میں جب بھی سلگتا تھا اِرادہ کوئی
آہنی طوق تمازت سے پگھل جاتے تھے

آنکھ کے دشت میں اب لاکھ آلاؤ دہکیں
روح کی برف پگھلتی ہی نہیں
اب وہ آدرش کبھی
وقت کی اوٹ سے جھانکیں بھی تو یوں جھانکتے ہیں
جس طرح ٹوُٹا تارہ کوئی
ایک لمحے کے لیے کوُند کے چھپُ جاتا ہے
کِس قدَر خواب تھے جو خواب رہے
اَب جو سوچیں بھِی تو خوف آتا ہے

Kids are smart!

TEACHER: Maria, go to the map and find North America .
MARIA: Here it is.
TEACHER: Correct. Now class, who discovered America ?
CLASS: Maria.

——————————————–

TEACHER: John, why are you doing your math multiplication on the floor?
JOHN: You told me to do it without using tables.

——————————————–

[Read the rest of this entry...]

Barwan Khilarhi - By Iftikhar Arif


خشُگوار موسم میں

اَن گِنت تماشائی

اپنی اپنی ٹیموں کو

داد دینے آتے ہیں

اپنے اپنے پیاِروں کا

حوصلہ بڑھاتے ہیں

میں الگ تھلگ سب سے

بارھویں کھلاڑی کو

ہوُٹ کرتا رہتا ہوں

بارھواں کھلاڑی بھی

کیا عجب کھلاڑی ہے

کھیل ہوتا رہتا ہے

شوُر مچتا رہتا ہے

داد پڑتی رہتی ہے

اور وہ الگ سب سے

اِنتظار کرتا ہے

ایک ایسی ساعت کا

ایک ایسے لمحے کا

جِس میں سانِحہ ہو جائے

پِھر وہ کھیلنے نِکلے

تالیوں کے جھُرمٹ میں

ایک جملہِ خوُشکن

ایک نعرہِ تحِسین

اُس کے نام پَر ہو جائے

سب کھلاڑیوں کے ساتھ

وہ بھی معتبر ہو جائے

پَر یہ کم ہی ہوتا ہے

پِھر بھی لوگ کہتے ہیں

کھیل سے کھلاڑی کا

عُمر بھر کا رِشتہ ہے

عُمر بھر کا یہ رِشتہ

ٹوُٹ بھی تو سکتا ہے

چھوُٹ بھی تو سکتا ہے

آخری وِسَل کے ساتھ

ٹوُٹ جانے والا دِل

ڈُوب بھی تو سکتا ہے

تمُ بھی افتخار عارِف

بارھویں کھلاڑی ہو

اِنتظار کرتے ہو

ایک ایسی ساعت کا

جِس میں حادثہ ہو جائے

جِس میں سانِحہ ہو جائے

تمُ بھی افتخار عارِف

تمُ بھی ڈوُب جاؤ گے

تمُ بھی ٹوُٹ جاؤ گے