اقبال، ایک باپ کی حیثیت سے
جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال
میں نے سنا ہے کہ میری پیدائش سے چند سال قبل ابا جان حضرت شیخ احمد سرہندی مجددِ الف ثانی کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایک بیٹا عطا کرے۔ آپ نے حضرت مجدد سے یہ عہد بھی کیا کہ اگر خداوندتعالیٰ نے آپ کو بیٹا دیا تو اُسے ساتھ لے کر مزار پر حاضر ہوں گے۔
آپ کی دعا پوری ہوئی اور کچھ عرصے بعد جب میں نے ہوش سنبھالا تو آپ مجھے اپنے ہمراہ لے کر دوبارہ سرہند شریف پہنچے۔ اس سفر کی دھندلی سی یادیں میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ میں اُن کی انگلی پکڑے مزار میں داخل ہوا۔ گنبد کے تاریک مگر پروقار ماحول نے مجھ پر ہیبت سی طاری کر رکھی تھی۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے میں اپنے چاروں طرف گھور رہا تھا۔ جیسے میں اس مقام کی خاموش ویرانی سے کچھ کچھ شناسا ہوں۔ ابا جان نے مجھے اپنے قریب بٹھالیا۔ پھر قرآن مجید کا ایک پارہ منگوایا اور دیر تک پڑھتے رہے۔ اس وقت صرف ہم دو ہی مزار کے قریب بیٹھے تھے۔ گنبد کی خاموش اور تاریک فضا میں ان کی آواز کی گونج ایک ہول ناک اِرتعاش پیدا کر رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو اُمڈ کر رخساروں پر ڈھلک آئے تھے۔ ایک روز وہاں ٹھہرنے کے بعد ہم گھر واپس آگئے۔ لیکن مجھ پر اس راز کا اِنکشاف نہ ہوا کہ آخر اس مزار پر جانے کا مقصد کیا تھا اور وہ آنسو کس لیے تھے۔ مجھے یاد ہے میں بچپن میں اکثر یہی سوچا کرتا تھا۔
اپنی زندگی میں ابا جان نے مجھے شاید ہی کوئی ایسا موقع دیا ہوگا جس سے میں ان کی شفقت یا اس اُلفت کا اندازہ لگاسکتا جو انہیں میری ذات سے تھی۔ والدین بچوں کو اکثر پیار سے بھینچا کرتے ہیں، انھیں گلے سے لگاتے ہیں، انھیں چومتے ہیں مگر مجھے ان کے چہرے سے کبھی اس قسم کی شفقت کا احساس نہ ہوا۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ انھیں مجھ سے محبت نہ تھی، سراسر غلط ہے۔ ان کی محبت کے اظہار میں ایک اپنی طرز کی خاموشی تھی جس تک پہنچنے کی اہلیت میرا ناپختہ ذہن نہ رکھتا تھا۔ بہرحال، جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، میں ان سے محبت کم کرتا اور خوف زیادہ کھاتا تھا۔
بعض اوقات والدین میں اپنے بچوں کی تربیت کے سلسلے میں تنازعہ بھی ہوجایا کرتا ہے۔ اسی طرح اباجان اور اماں جان میں میری وجہ سے کئی بار تکرار ہوجاتی۔ مثلاًاماں جان کو میرے متعلق ہر گھڑی یہی فکر دامن گیر رہتی کہ جب کبھی میں اکیلا کھانا کھاﺅں، پیٹ بھر کر نہیں کھاتا۔ اس لئے وہ ہمیشہ مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا کرتیں۔ یہاں تک کہ میں آٹھ نو برس کا ہوگیا پھر بھی مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھانے کی عادت نہ پڑی، ابا جان اس بات پر بارہا ناراض ہوئے کہ تم اسے بگاڑرہی ہو۔ اگر یہ جوان ہوکر خود کھانا نہ کھاسکا تو کیا ہوگا؟ ہم لوگ رات کو اکثر خشکہ کھایا کرتے تھے لہٰذا اب یوں ہوتا کہ بطور احتیاط چمچہ میری پلیٹ کے قریب رکھ دیا جاتا مگر کھانا اماں جان ہی کھلاتیں۔ ابا جان کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ دبے پاﺅں زنانے میں آیا کرتے۔ اس طرح کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے پاتی۔ بہرحال، جب بھی اماں جان مجھے کھلارہی ہوتیں، ان کا دھیان باہر رہتا اور جونہی وہ ابا جان کے قدموں کی ہلکی سی آہٹ سنتیں اپنا ہاتھ پھرتی سے علیحدہ کرکے چمچہ میرے آگے رکھ دیتیں اور میں خود کھانا کھانے میں مشغول ہوجاتا۔ مجھے یقین ہے کہ ابا جان کئی مرتبہ اس کا سراغ لگاچکے تھے۔ لیکن وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے بعد چلے جایا کرتے تھے۔
[Read the rest of this entry...]